لاہور (آن لائن) سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے ڈپٹی اپوزیشن لیڈرمحمد بشارت راجہ، پارلیمانی لیڈر میاں محمود الرشید، رکن اسمبلی حافظ عمار یاسر، عباس شاہ اور اپنی وکلاء ٹیم کے ہمراہ پنجاب اسمبلی میں پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ عدلیہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ہمیں اپنی عدالتوں پر کوئی شک نہیں مگر فیصلے میں کچھ قباحتیں ہیں جن پر سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ سے 5 مخصوص نشستوں پر فیصلہ کا آرڈر کی مصدقہ نقل نہیں مل رہی۔ سپریم کورٹ میں 8 پٹیشنز زیر التواء ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کے وکلاء سپریم کورٹ کے لیے پٹیشن تیار کر رہے ہیں۔ کل کے الیکشن کے حوالے سے کچھ فیصلے ہیں جن کا اعلان کل کریں گے۔ 17 جولائی کا پہلے ضمنی انتخاب ہو پھر وزیراعلی کا انتخاب ہو۔جس پرائزیڈنگ افسر نے وزیرِ اعلیٰ کے الیکشن میں خرابی پیدا کی،اسی ڈپٹی اسپیکر کو دوبارہ پرائزیڈنگ افسر لگا دیا جو درست نہیں۔ جس نے اراکین اسمبلی کوایوان میں زخمی کرایا اب وہی دوبارہ الیکشن کرائے گا، یہ قرین انصاف نہیں۔ ہمارے 6اراکین فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے ہیں،24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ان کی ملک واپسی ممکن نہیں۔اس موقع پر محمد بشارت راجہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے وزیر اعلیٰ کا16 اپریل کا الیکشن کالعدم قرار دیا ہے تاہم حمزہ شہباز کے تمام احکامات کو قانونی قرار دیا گیا ہے۔ ہماری 5 نشستوں کا نوٹیفیکشن ہونا ہے۔ 5 اراکین کو نوٹیفیکشن کے بعد ووٹ کا حق ملنا ہے۔مگر ہمیں فیصلہ کی نقل فراہم نہیں کی جا رہی۔24 گھنٹے سے کم وقت میں انتخاب کرانے کے لیے کہا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی کا ایوان ابھی نامکمل ہے۔تمام اقدامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رہے ہیں۔ امید ہے ہمارے لیے بھی رات 12بجے عدالت کھلے گی۔ ہمارے ہاتھ باندھ دیے، زبان بند کر دی،اور کہا جا رہا ہے کہ الیکشن لڑ لیں۔ میاں محمود الرشید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نگران وزیراعلی اپنی 16اپریل کی آئینی حیثیت پر آئیں اور پھر وزیراعلی کا انتخاب ہو-
Load/Hide Comments



