اسلام آباد (آن لائن)وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے این ڈی ایم اے کی طرف سے قومی سطح کی سمیولیشن ایکسرسائز “امید سحر” کی اختتامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ ورکشاپ کے انعقاد پر اقوام متحدہ اور این ڈی ایم اے کی کوششوں کو سراہتے ہیں پاکستان موسمیاتی ہنگامی صورتحال کے فرنٹ لائنز پر ہے،سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، طوفانی بارشیں، گلاف کے واقعات، زلزلے، وغیرہ کثرت سے پیش آ رہے ہیں،ماحولیاتی تباہی قومی سلامتی کا مسئلہ ہے،این ڈی ایم اے کی مشق اہم اور بروقت ہے،یہ اہم نیشنل لیول سمولیشن ایکسرسائز، رسک مینجمنٹ، اور باہمی تعاون کے ذریعے آفات سے نمٹنے کے لیے فعال انتظام کے لیے کام کرنے میں اہم ثابت ہوگی،شیری رحمان نے کہا کہ نچلی سطح پر بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مقامی کمیونٹیز کے علم اور صلاحیتوں پر بہت زیادہ زور دینے کی ضرورت ہے ہر ایک کمیونٹی اور گھرانے کو ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لئے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے،ہمیں ایک مربوط کوششوں کی ضرورت ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں پاکستان کو متعدد ماحولیاتی بحرانوں کا سامنا ہیسندھ اور بلوچستان کو خشک سالی اور پانی کی کمی سامنا ہے شمالی علاقہ جات کے گلیشیئر پگھل رہے ہیں مجھے پاکستان میں پانی کی بڑھتی ہوئی کمی پر تشویش ہے،بحران سے نمٹنے کے لیے انسانی، تکنیکی اور دیگر وسائل کلیدی حیثیت رکھتے ہیں-
Load/Hide Comments



