اسلام آباد(آن لائن) وزیر مملکت برائے امورخارجہ حناربانی کھر دولت مشترکہ سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے روانڈا کے دورہ پر ہیں جہاں انہوں نے کیگالی میں دولت مشترکہ کے وزرائے خارجہ کے وزارتی اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی۔اجلاس میں دولت مشترکہ کے سربراہان حکومت کے اجلاس کے نتائج کو حتمی شکل دی گئی۔وزرائے خارجہ کے اجلاس میں مشترکہ مستقبل کی فراہمی پائیدار اور جامع ترقی، کوویڈ کے بعد بحالی،جمہوریت، امن اور گورننس سمیت مشترکہ تشویش کے امور زیر بحث آئے۔ ترجمان دفتر خارجہ ک مطابق حناربانی کھر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا جمہوری ممالک کے خاندان کے طور پر، دولت مشترکہ کو اقوام متحدہ میں اپنے مرکزی کردار کا اعادہ کرے۔ دولت مشترکہ کو جمہوریت، قانون کی بالادستی، اچھی حکمرانی اور انسانی حقوق کے احترام قوموں کے اندر اور ان کے درمیان امن اور خوشحالی کو استحکام کی بنیادوں کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدار، خاص طور پر انسانی حقوق کا احترام، بشمول حق خود ارادیت کا اطلاق عالمی سطح پر بلا امتیاز کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک فرد کے حقوق کو دوسرے کے حقوق پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔ سب کو موروثی اور مساوی حقوق حاصل ہونے چاہئیں، ذات، رنگ، جنس، عقیدے یا عقیدے کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں کیا جانا چاہیے۔اس موقع پر وزیر مملکت نے رطانیہ کے وزیر برائے جنوبی ایشیا، دولت مشترکہ اور اقوام متحدہ لارڈ طارق احمد کے ساتھ ملاقات کی۔ حناربانی نے جمیکا کی وزیر خارجہ کمینا جانسن سمتھ؛ ڈومینیکا کے وزیر خارجہ ڈاکٹر کینتھ ڈیروکس اور سیرا لیون کے وزیر خارجہ پروفیسر ڈیوڈ جے فرانسس سے ملاقاتیں کیں-
Load/Hide Comments



