پٹرول مہنگا کر کے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا،مفتاح اسماعیل

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پٹرول مہنگا کر کے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے،عمران خان پاکستان کو دیوالیہ ہونے کی نہج پر چھوڑ گئے،امیروں پر ٹیکس لگارہے ہیں تاکہ جھولی نہ پھیلانی پڑے، 2سے 3ماہ میں مشکلات پر قابو پا لیں گے،عمران خان نے آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑا جس سے مہنگائی ہوئی۔ جمعرات کو وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم نے بجٹ میں کوئی ٹیکس نہیں بڑھایا، ہم نے غریب افراد پر ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا، شوگر ملز پر ٹیکس بڑھایا ہے، امیروں پر ٹیکس لگارہے ہیں تاکہ جھولی نہ پھیلانی پڑے، پاکستان میں ہمیشہ غریب کے لیے ٹیکس ہوتا ہے، ہم نے وزیراعظم کے بیٹوں کی کمپنیوں پر بھی ٹیکس لگایا ہے، خود میری کمپنی پر بھی مزید ٹیکس عائد ہوگا، پی ٹی آئی دور میں بہت زیادہ ٹیکسز لگائے گئے تھے۔ جن کی آمدنی 15 کروڑ روپے ہے ان پر مزید ایک فیصد، جن کی آمدنی 20 کروڑ سے زیادہ ہے ان پر 2 فیصد، جن کی امدنی 25 کروڑ روپے سے زیادہ ہے ان پر 3 فیصد اور جن کی آمدنی 30 کروڑ روپے سے زیادہ ہے ان پر 4 فیصد سے زیادہ مزید ٹیکس عائد کریں گے جب کہ نئے ٹیکس سے میری اپنی کمپنی کا بھی کم از کم 20 سے 25 کروڑ روپے کا ٹیکس بڑھ جائے گا،ہم آج قومی اسمبلی میں تقریر کر کے بجٹ کلوز کر یں گے، وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے میں پیشرفت ہوئی ہے جب کہ گزشتہ روز چین نے 2.3 ارب ڈالرز معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں اور پیر تک پیسے آجائیں گے،مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے جتنے بھی ٹیکس لگائے اس سے غریب متاثر ہوا،پونے چار سال کے عرصہ میں عمران خان نے 80فیصد زیادہ قرض لیا، جب ان کی حکومت آئی تھی تو 25 ہزار کا قرض تھا جب کہ ان کی حکومت گئی تو پاکستان کا قرضہ 45 ہزار ارب ہو گیا تھا۔جب آپ اتنے قرض لیں گے تو کس طرح سے خود مختاری کی بات کرسکتے ہیں، اصل خودمختاری تو تب ہوگی جب ملک کا بجٹ خسارہ ختم ہوگا، جب ہمیں مزید قرض نہیں لینا پڑے گا۔