وفاقی وزراغائب،اپوزیشن لیڈر کا شدید احتجاج،ایوان سے واک آؤٹ

اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزراء کی عدم حاضری پر اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا،بدھ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔بجٹ بحث کے دوران ایک بھی وزیر ایوان میں نہ ہونے پر اپوزیشن لیڈر نے شدید احتجاج کیا اور رکن اسمبلی احمد حسین ڈیہڑ ہمراہ ایوان سے واک آؤٹ کر گئے تاہم ڈپٹی سپیکر کی ہدایت پر قادر پٹیل اپوزیشن لیڈر کو منا کر واپس ایوان میں لے آئے۔اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں وفاقی وزراء موجود نہیں ہیں لیکن بجٹ پر بحث جاری ہے اس بحث کو کون نوٹ کر رہا ہے اس لیے ہم اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔رکن اسمبلی وحید عالم خان نے کہا کہ بی جے پی کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی شدید مذمت کرتا ہوں ہم نے سیاست کو داؤ پر لگا کر حکومت کی بھاگ دوڑ سنبھالی،عمران خان منافقت کی سیاست کر رہے ہیں، انہوجتھوں کے ہمراہ اسلام آباد پر حملہ کیا، موجودہ مہنگائی کی مناسبت سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مزید اضافہ ہونا چاہیے، مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھارہی ہے، شمالی وزیرستان میں چار پڑھے لکھے نوجوانوں کو شہید کیا گیا،اس پر سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے رولنگ آنی چاہیے تاکہ ملزمان کو فوری گرفتاری ہو سکے، سائرہ بانو نے کہا کہ پچھلے دو ماہ سے حکومتی اراکین اور وفاقی وزراء ایوان میں نہ آکر ایوان بے توقیری کر رہے ہیں، سارے حکومتی اراکین الیکشن کمیشن کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کی کمپین کر رہے ہیں، چوہدری فقیر حسین نے کہا کہ میرے حلقے میں ایک بچی کو اغوا کر کے زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا، آئی جی پنجاب کو پابند کیا جائے کہ وہ اس حوالے سے تحقیقات سے آگاہ کریں انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت نے ایک اچھا بجٹ پیش کیا ہے،چائلڈ لیبر کے حوالے سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، زراعت کی ترقی کیلئے کسانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جانی چاہیں اور سبسڈی دی جائے-