اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دیرینہ شراکت داری ہے جس کی بنیاد تاریخی اور عوام سے عوام کے روابط پر قائم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانیہ کے وزیر برائے مسلح افواج جیمز ہیپی سے بات چیت کرتے ہوے کیا جنہوں نے ان سے یہاں ملاقات کی۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ پاکستان-برطانیہ اینہانسڈ سٹریٹیجک ڈائیلاگ دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفاد ات کے شعبوں میں دوطرفہ روابط کو گہرا کرنے میں معاون ہونگے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دونوں ممالک اس سال اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منائیں گے، وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ اس موقع کو شایان شان طریقے سے منایا جائے گا اور آنے والے سالوں میں پاکستان اور برطانیہ کے تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے لیے نئی تحریک فراہم کی جائے گی۔.وزیر اعظم نے ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کی اہمیت پر بھی زور دیا اور اس ملک میں انسانی بحران کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی اہمیت اور فوری ضرورت کو اجاگر کیا۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ 40 ملین افغانوں کی بھلائی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ یوکرین کے بارے میں، وزیر اعظم نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ جاری تنازعہ کے ترقی پذیر ممالک پر بھی اثرات مرتب ہوں گے، جبکہ اس معاملے پر پاکستان کے اصولی موقف کی توثیق کی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ متعلقہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق یوکرین مسئلے کا سفارتی حل تلاش کرے۔ وزیراعظم نے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کی سنگین صورتحال پر بھی روشنی ڈالی۔ بھارت سمیت خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعہ کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں مستحکم فوجی توازن برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ برطانیہ کے دورے پر آئے ہوئے وزیر نے دونوں ممالک کے درمیان خاص طور پر تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تاریخی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے وزیر اعظم کے خیالات سے اتفاق کیا۔ انہوں نے برطانیہ کے ساتھ پاکستان کے تعاون، خاص طور پر 15 اگست 2021 کے بعد افغانستان میں ہونے والی پیش رفت کے نتیجے میں انخلاء کے حوالے سے اپنی حکومت کی جانب سے پاکستانی کردار کو بھی سراہایا۔
Load/Hide Comments



