عبدالقدوس بزنجو نے وزیراعظم شہباز شریف کو بلوچی (دستار اور ڈھاڈری گن)تحفے میں دیا

کوئٹہ(آن لائن)وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کو بلوچی (دستار اور ڈھاڈری گن)تحفے میں دیا وزیراعظم کے ہمراہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ ورکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل،جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹرعبدالغفور حیدری وفاقی وزراء،شاہ زین بگٹی، اسد محمود، مولانا عبدالواسع، احسن اقبال ودیگر بھی کوئٹہ تشریف لائے تھے۔ٹہ(آن لائن)وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے ان کے دورہ کوئٹہ کے دوران کئے جانے والے اعلانات کا خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ان اعلانات کو جلد عملی جامہ پہنانے کیلئے فوری اقدامات کا آغاز کیا جائے گا وزیراعلی نے وزیراعظم کی جانب سے کوئٹہ میں ٹیکنیکل یونیورسٹی کے قیام قومی شاہراہ چمن تاخضدار سیکشن کے ساتھ ساتھ خضدار تا لسبیلہ سیکشن پر بھی کام کے آغاز، چمن تا کراچی شاہراہ کو ڈیڑھ سال میں مکمل کرنے، کوئٹہ شہر کیلئے میٹرو بس سروس کے آغاز اور بلوچستان کے پانچ لاکھ خاندانوں کو اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کی شرط پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے فنڈنگ جس کیلئے دس ارب روپے مختص کئے گئے ہیں کا بھی خیر مقدم کیا ہے دریں اثنا وزیراعلی نے وزیراعظم کے دورہ بلوچستان کا صوبے کے عوام اور اپنی حکومت کی جانب سے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم شکر گذار ہیں کہ وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے فوری بعد محمد شٹہ(آن لائن)وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے ان کے دورہ کوئٹہ کے دوران کئے جانے والے اعلانات کا خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ان اعلانات کو جلد عملی جامہ پہنانے کیلئے فوری اقدامات کا آغاز کیا جائے گا وزیراعلی نے وزیراعظم کی جانب سے کوئٹہ میں ٹیکنیکل یونیورسٹی کے قیام قومی شاہراہ چمن تاخضدار سیکشن کے ساتھ ساتھ خضدار تا لسبیلہ سیکشن پر بھی کام کے آغاز، چمن تا کراچی شاہراہ کو ڈیڑھ سال میں مکمل کرنے، کوئٹہ شہر کیلئے میٹرو بس سروس کے آغاز اور بلوچستان کے پانچ لاکھ خاندانوں کو اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کی شرط پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے فنڈنگ جس کیلئے دس ارب روپے مختص کئے گئے ہیں کا بھی خیر مقدم کیا ہے دریں اثنا وزیراعلی نے وزیراعظم کے دورہ بلوچستان کا صوبے کے عہبازشریف کوئٹہ تشریف لائے اور یہ دورہ اس بات کا مظہر ہے کہ وزیراعظم بلوچستان کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں ان خیالات کا اظہانے کراچی تا کوئٹہ کے (Dual Carriageway)ڈیول کیرج وے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا منصوبے کا سنگ بنیاد وزیراعظم محمد شہباز شریف نے رکھا تقریب میں وفاقی اور صوبائی وزرا، اراکین پارلیمنٹ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار محمد اختر جان مینگل، اعلی سول حکام اور لوگوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی وزیراعلی نے کہا کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ کو دو رویہ کرنے کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ہمیشہ سے بلوچستان کے عوام کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے وزیراعلی نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ چمن کراچی شاہراہ کو 4 لین سے بڑھاکر 6 لین کیا جائے اور اس کی مدت تکمیل کو تین سال سے کم کرکے ڈیڑھ سال کیا جائے وزیراعلی بلوچستان نے بحیثیت وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف کے اقدامات اور کارکردگی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ چمن کراچی شاہراہ کی تکمیل میں بھی وزیراعظم اپنی انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اس منصوبے کی جلد تکمیل کرائیں گے وزیراعلی نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ وزیراعظم کی قیادت میں بلوچستان کی ترقی کا خواب ضرور تعبیر پائے گااور صوبہ بلوچستان کوانکی خصوصی توجہ حاصل رہے گی۔ وزیراعلی نے کہا کہ ہماری حکومت کو قائم ہوئے تقریبا6ماہ ہی ہوئے ہیں اللہ کے فضل سے ہم نے اس مختصر مدت میں کئی ایک اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں ہم نے 6ماہ کی مدت میں صوبائی کابینہ کے پانچ اجلاس منعقد کرکے ان میں تقریبا 200 سے زائد اہم معاملات کے حوالے سے فیصلے کئے جن پر عملدرآمد جاری ہے صوبائی اسمبلی میں اس 6ماہ کی مختصر مدت میں اہم نوعیت کے 18بل پاس کئے گئے اور قانون سازی کایہ عمل قابل اطمینان طریقے سے جاری ہے ہمارے سامنے سب سے اہم چیلنج بارڈر ٹریڈ کی بحالی تھا جس پر ہم نے شروع دن سے توجہ مرکوز رکھی تاکہ سرحدی علاقے کے لوگوں کے گھروں کے چولہے جلتے رہیں وزیراعلی نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ پاک ایران بارڈر پر مجوزہ ٹریڈ پوائنٹس اور بارڈر مارکیٹوں کے قیام کے منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار کو تیز کیا جائے اورجب تک نارمل ٹریڈ کے حوالے سے انتظامات مکمل نہیں ہوتے تب تک لوگوں کو معمول کی ٹریڈ میں خصوصی رعایت جاری رہنی چاہیے انہوں نے کہا کہ ہم نے بلوچستان کی سمندری حدود میں غیر قانونی ٹرالنگ کے خلاف مثر اقدامات کئے اور الحمداللہ اس وقت ہماری سمندری حدود میں کوئی غیر قانونی ٹرالر موجود نہیں صوبائی حکومت نے نوجوانوں کو فنی تربیت کی فراہمی کیلئے 2ارب روپے کی لاگت کاانڈوومنٹ فنڈ قائم کیا ہے تاہم یہ ناکافی ہے ہماری درخواست ہوگی کہ وفاقی حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کے لئے خصوصی پیکج کی منظوری دے جس میں بلوچستان کے نوجوانوں کے لیئے ملک کے تعلیمی اداروں میں اعلی تعلیم اور فنی تربیت کے لیئے خصوصی وظائف دیئے جائیں وزیراعلی نے کہا کہ صوبے میں سیاسی ہم آہنگی اور افہام و تفہیم کی فضا کو فروغ دیا گیا ہے وزیراعلی سیکرٹریٹ تک عام لوگوں اور سائلین کو آسان رسائی دی گئی ہے نوجوانوں کو
اہلیت اور میرٹ کی بنیا پر روزگار کی فراہمی بھی ہماری اولین ترجیح ہے۔ مختلف صوبائی محکموں میں ہزاروں خالی اسامیاں مشتہر کی گئی ہیں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے اسسٹنٹ کمشنر،سیکشن آفیسر، ڈی ایس پی، تحصیلدار، نائب تحصیلدار اور سی ٹی ڈی کی ہزاروں اسامیوں پر بھرتی کا صاف و شفاف عمل جاری ہے وزیرعلی نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ وفاق کے زیر انتظام اداروں میں بلوچستان کے کوٹے کی آسامیوں پر بلوچستان کے نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے انہوں نے کہا کہ بلوچستان پہلا صوبہ ہے جہاں ترقیاتی عمل میں شفافیت برقرار رکھنے کیلئے ای ٹینڈرینگ کا آغاز کیاجا رہا ہے جس پر جولائی2022سے عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔ملک کے دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی غیر ضروری سکیورٹی چیک پوسٹوں کو ختم کیا گیا ہے اور اس میں مزید کمی لائی جا رہی ہے وزیراعلی نے کہا کہ ڈیڑھ سال سے تعطل کا شکار کوئٹہ پیکج میں شامل منصوبوں پر تیز رفتار ی سے عملدرآمد کا آغاز کردیاگیا ہے اس بارے دو رائے نہیں ہوسکتی کہ پاکستان کا مستقبل بلوچستان کی اقتصادی ترقی سے وابستہ ہے وفاقی حکومت کی جانب سے جنوبی بلوچستان کو خصوصی ترقیاتی پیکج فراہم کیاگیا ہے جس پر عملدرآمد جاری ہے تاہم صوبے کے شمالی اضلاع کے لیے بھی اسی طرز پر خصوصی ترقیاتی پیکج کی ضرورت ہے تا کہ صوبے کی یکساں ترقی ممکن ہو سکے انہوں نے کہا کہ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ بلوچستان کو سی پیک میں اس کا وہ حصہ نہیں ملا جو ملنا چاہئے تھاتاہم وزیراعظم کے آنے سے امید ہے کہ نہ صرف سی پیک کے منصوبوں پر کام تیز ہوگا بلکہ بلوچستان کے مزید منصوبے بھی سی پیک کا حصہ بنیں گے وزیرعلی نے کہا کہ بلوچستان کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی اور فنڈز کے مناسب اجرا کو یقینی بنانے کیلئے پلاننگ کمیشن آف پاکستان اور این ایچ اے میں بلوچستان کو موثر نمائندگی ملنی چاہئے بلوچستان میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیئے بھی خصوصی اقدامات اور بڑے منصوبوں کی ضرورت ہے جس سے صنعتی عمل کو بھی فروغ ملے گاخاص طور سے بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بجلی کی کمی پر قابو پانے کے لیئے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو بہتر کرنا ہوگاانہوں نے کہا کہ ہماری خواہش اور کوشش ہوگی کہ مکران کو نیشنل گرڈ سے منسلک کرنے کے منصوبے کو جلد عملی جامہ پہنایا جائے۔