ترجمان ایرانی دفتر خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات تب تک نہیں ہوسکتے جب تک وہ دھوکہ دینا نہیں چھوڑ دیتا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے صاف نیت نظر آئے گی تو سفارتکاری کے راستے پر چلا جاسکتا ہے اور ایٹمی معاملات پر مذاکرات بحال ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی ثابت کریں کہ سفارتکاری کا غلط استعمال نہیں ہوگا اور اس کا پھر سے استعمال دھوکہ دینے کے لیے نہیں ہوگا۔
امریکی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات کو خاطر خواہ نقصان نہیں پہنچا: امریکی اخبار کا دعویٰ
اپنے انٹرویو میں انہوں نے مزید بتایا کہ ’براہ راست رابطہ نہیں ہوا، لیکن بالواسطہ رابطے ہوئے ہیں، ہمارے وزیرِ خارجہ قطر اور دیگر ممالک سے بات چیت کر رہے ہیں اور پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ سفارتکاری نہیں رکتی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’امریکا نے اسرائیل سے جاری جنگ میں ہم پر حملہ کر کے خود کو باقاعدہ طور پر براہ راست اس میں ملوث کرلیا تھا۔ 22 جون کی رات ہونے والے امریکی حملے عالمی قانون اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے خلاف ورزی تھے۔‘



