سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ریکوڈک پراجیکٹ کی اعلی ترین کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد (آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ اور ریونیو سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ریکوڈک پراجیکٹ کی اعلی ترین کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ریکوڈک انتظامات کی تکمیل کے لیے طے شدہ اقدامات پر عملدرآمد ہونے میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔وزیر خزانہ نے متفقہ انتظامات کے تحت بقیہ اقدامات کی جلد تکمیل کی اہمیت کو اجاگر کیا اور تمام متعلقہ افرادپر زور دیا کہ وہ حتمی مقررہ تاریخ یعنی 15 دسمبر 2022 تک اقدامات کی کا میا بی سے تکمیل کو یقینی بنائیں اور تصفیہ کے بعد جلد از جلد پراجیکٹ کو بحال کیا جائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پہلے سے دائر ریفرنس پر سپریم کورٹ کی ایڈوائس موصول ہونے کے بعد ضروری قانون سازی کے اقدامات کیے جائیں گے جس کے لیے متعلقہ صوبے مکمل طور پر تیار ہیں۔ صوبائی حکومتوں نے بھی ضابطے کی تمام متعلقہ رسمی کاررواء یو ں کو مقررہ تاریخ کے اندر مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس کے شرکاء کا خیال تھا کہ طے شدہ انتظامات کی ڈیڈ لائن تک کامیاب تکمیل سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ ریکوڈک پراجیکٹ کی بحالی سے سرمایہ کاری کو فروغ دینے سے معیشت کو تقویت ملے گی اور ملک میں روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو گا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون سردار ایاز صادق، وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق مسعود ملک، وزیراعظم کے معاونالاقوامی سطح پر مقابلے کی فضا برقرار رہے اور اور وہ اپنے ایکسپورٹ آڈرز سے محروم نہ ہو سکیں۔ بزنس کمیونٹی کافی عرصے سے مطالبہ کر رہی ہے کہ پاکستان مین کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس خطے کے دیگر ممالک سری لنکا، بنگلہ دیش انڈیا ویتنام و دیگر ممالک سے زیادہ ہیں۔ لہذا انڈسٹری کیلئے پاور ٹیرف کو کم کر کے خطے کے دیگر ممالک کے لیول تک لایا جائے جس سے پیداواری لاگت میں کمی ہو گی جو برآمدات میں اضافے میں مددگار ثابت ہو گی۔فہیم الرحمان سہگل نے گورنر پنجاب سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی دلچسپی لیکر بزنس کمیونٹی کے مسائل کو حل کرایا جائے، پیداواری لاگت بڑھنے سے صنعتوں کی شرح نمو کم ہو کر رہ گئی ہے جس سے صنعتکاروتاجر برادری پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ بڑھتے ہوئے بے جا ٹیکس اور گیس و بجلی کی قیمتوں میں خطے کے دیگر ممالک کی نسبت اضافہ سے اشیاء کی پیداواری لاگت دن بدن بڑھ رہی ہیں جس سے بالواسطہ طور پر عوام متاثر ہورہی ہے۔ پیداوار کم ہونے سے برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں اور برآمدات میں کمی سے تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔ خطے میں دیگر ممالک کی طرح بزنس فرینڈلی پالیسیز ترتیب دی جائیں۔ صنعتوں کے لئے بجلی و گیس کے نرخ کم کیے جائیں، مہنگی بجلی و گیس پیداواری لاگت میں اضافہ کا باعث ہے اور مہنگی اشیاء کے باعث بیرون ملک ان کی مانگ میں کمی اور برآمدات میں کمی واقع ہورہی ہے، ٹریڈ پالیسی میں مختص اربوں روپے کی رقم کو استعمال میں لاتے ہوئے پاکستانی اشیاء کیلئے بیرون ملک نئی مارکیٹس کو پروموٹ کیا جائے اور وہاں پاکستانی مصنوعات کی نمائش منعقد کی جائیں تاکہ ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ اور تجارتی خسارہ میں کمی ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں