پاکستان کے عدالتی نظام اور عالمی نظام انصاف میں بہت فرق ہے،چیف جسٹس آف پاکستان

اسلام آباد(ان لائن) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریکوڈک صدارتی ریفرنس کیس میں ریمارکس دیئے کہ پاکستان کے عدالتی نظام اور عالمی نظام انصاف میں بہت فرق ہے،پاکستان کے نظام انصاف میں بہتری ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے،غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی پاکستان کے نظام انصاف پر اعتماد کرنا چاہیے،پاکستان کے نظام انصاف میں بہتری کے لیے بہت اقدامات کیے گئے ہیں جن کے نتائج کچھ وقت کے بعد نظر آئیں گے،ریکوڈک معاملہ پر حکومت پاکستان بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھ کر اقدامات اٹھائے ورنہ کمپنی پھر عالمی ثالثی فورم پر چلی جائے گی،جب تنازعات عالمی فورمز پر پہنچ جائیں تو حل کرنے میں بہت وسائل خرچ ہوتے ہیں۔سرمایہ کاری سے جڑے تنازعات کو عدالتوں میں کیوں لاتے ہیں؟سرمایہ کاری سے جڑے تمام تنازعات عدالت سے باہر حل کرنے کا طریقہ کار بنائیں،پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ کاروبار کی دستاویزات نا ہونا ہے،ملک میں ضروری وسائل کی پیداوار کے بغیر بین الاقوامی قرضوں میں اضافہ ہوا ہے،فیٹف نے بھی پاکستا ن پر شفاف سرمایہ کاری اور ٹرانزیکشنز پر زور دیا تھا،اگر فارن انویسٹمنٹ کی کوئی حد مقرر نا ہوئی تو مجوزہ قانون سازی سے نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا۔ معاملہ کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں