بعض پیٹرول اسٹیشنوں کا بینک کارڈز کے ذریعے ادائیگی سے انکار کا معاملہ جلدحل ہوجائے گا، سٹیٹ بینک

کراچی (آن لائن)بینک دولت پاکستان نے کہا ہے کہ بعض پیٹرول اسٹیشنوں کا بینک کارڈز کے ذریعے ادائیگی سے انکار کا معاملہ جلدحل ہوجائے گا،کرپٹو کرنسی کے حوالے سے اسٹیٹ بینک نے عوام کو تحفظ، آگہی اور رہنمائی فراہم کرنے کی غرض سے کئی اقدامات کیے ہیں، مرکزی بینک ڈجیٹل کرنسی متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہے۔بینک دولت پاکستان کی پوڈکاسٹ سیریز کی پندرھویں قسط میں ڈجیٹل فنانشل سروسز گروپ اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سہیل جواد نے پاکستان کے ڈجیٹل مالی امور کے حوالے سے کہا کہ نظام ادائیگی کے فراہم کنندگان ون لنک اور نفٹ نے انٹراپریبل نے مالی لین دین کو یقینی بنا کر پاکستان میں ڈجٹل ادائیگیوں کو عام کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے جو ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے وہ مقامی پیمنٹ گیٹ وے ’راست‘ کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے عشرے کے دوران پاکستان میں ڈجیٹل ادائیگی کے نظام تیزی سے بڑھے ہیں۔ خاص طور پر ڈجیٹل طریقوں سے بلز کی ادائیگیوں، فنڈ ٹرانسفر اور ای کامرس کی لین دین غیرمعمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔پاکستان میں لگ بھگ 5000 رجسٹرڈ آن لائن مرچنٹس اور بینکاری ایپس کے 13 ملین استعمال کنندگان ہیں جبکہ ہر سال موبائل بینکاری کے ذریعے تقریباً 20 ٹریلین روپے کی لین دین ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ راست ایک صارف دوست نظام ہے جس میں ایک فرد کو کسی لاگت کے بغیر رقوم بھیجنے یا وصول کرنے کے لیے اپنے موبائل فون نمبر کو اپنے ترجیحی بینک اکاؤنٹ سے منسلک کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان کا شمار ڈجیٹل پلیٹ فارموں کو اختیار کرنے والے سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے اور اس کے پاس اپنی پیمنٹ اسکیم پیپاک (PayPak) کے ساتھ ساتھ ریئل ٹائم گراس سیٹل منٹ سسٹم (آر ٹی جی ایس) موجود ہے جس کیزریعے یومیہ 1.4 ٹریلین روپے پروسیس کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کا معاملہ دلچسپ نوعیت کا ہے کیونکہ اس کے ہر ٹوکن کا اجرا کنندہ نامعلوم ہوتا ہے، اور اس میں قانونی اتھارٹی یا ضابطہ کاری کا فقدان ہے۔ بلاک چین ٹیکنالوجی، کرپٹو کرنسی کے ساتھ ساتھ اوپن ڈیٹا اور اوپن بینکنگ وغیرہ کے میدانوں میں کئی مواقع فراہم کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں کچھ پیٹرول اسٹیشنوں نے بینک کارڈز کے ذریعے ادائیگی سے انکار کیا ہے۔ مرچنٹس کی جانب سے کارڈ پر مبنی ٹرانزیکشنز کے لیے فیس کی ادائیگی ڈیلرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں میں تقسم کی جاتی ہے۔ یہ فیس فی لیٹر لاگت پر مخصوص شرح سے ادا کی جاتی ہے، جبکہ پیٹرول اسٹیشنز کو مارجن کے طور پر روپوں معینہ رقم ملتی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں اور زرمبادلہ کی تغیر پذیری نے پیٹرول اسٹیشنوں کی لاگت میں اضافہ کردیا، جس سے کریڈٹ کارڈز پر فیس دینے کے حوالے سے ان کی مالی سکت کم ہوگئی۔ اسٹیٹ بینک نے متعلقہ فریقوں سے رابطے میں ہے اور امید ہے کہ یہ مسئلہ جلد حل ہوجائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں