سینیٹ اجلاس، اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود نیب ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور

اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا نے نیب ترمیمی بل اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود کثرت رائے سے منظور کر لیا،مسلم لیگ ن،جے یوآئی،اے این پی سمیت حکومتی حلیف جماعتوں نے بل کی حمایت کی۔تحریک انصاف کے اراکین نے بل کی منظوری کے خلاف چیرمین ڈائس کے سامنے احتجاج کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ایوان سے احتجاجاً واک آوٹ کیا،جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کی جانب سے پیش کردہ ترامیم مسترد کر دی گئیں۔جمعرات کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران حکومت کی جانب سے وزیر مملکت برائے قانون سینیٹر شہادت اعوان نے نیب ترمیمی بل پیش کیا اس موقع پر تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ حکومت نیب کے ادارے کو بند کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اب 50کروڑ سے کم لاگت والے مقدمات نیب سے نکالنے کے حوالے سے ترامیم لا رہی ہے انہوں نے کہاکہ ایک ایسی حکومت جس کے لیڈران پر کرپشن کے الزامات ہیں اور وہ کابینہ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ نیب قوانین میں ترامیم لا رہی ہے انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت ملک میں کرپشن کو جائز کر رہی ہے اس بل کو کمیٹی میں بھجوایا جائے ایسے ترامیم سے اس ایوان کا وقار مجروح ہورہا ہے انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کے پاس ایسے اقدامات اٹھانے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے قومی اسمبلی ربڑ اسٹیمپ بن چکی ہے اور اب ایوان بالا کو بھی ربڑ اسٹیمپ بنانے پر تلی ہوئی ہے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ اس حوالے سے آج صبح ترامیم سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرائی ہیں اس طرح کی قانون سازی پر اپوزیشن سے مشاورت ضروری ہے انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں کرپشن ہے جو کہ ملک کی سالمیت کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے اس ملک کے اندر کرپٹ مافیا نے بڑے پیمانے پر دولت بیرون ممالک منتقل کی ہے اس بل میں جو ترامیم ہیں اس کے مطابق موجودہ، ماضی اور مستقبل کے چوروں کو بھی تحفظ دیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ بل کے جو مندرجات ہیں اس پر تجاویز دینا چاہتا ہوں یہ غلط ہے کہ گذشتہ 20سالوں کے جرائم کو تحفظ دیا جائے انہوں نے کہاکہ سابقہ اور موجودہ حکومت نے ایمنسٹی سکیم دی ہے اس کا مقصد چوروں کو چور دروازہ فراہم کرنا ہے یہ اشرافیہ،مافیا اور چوروں او رڈاکووں کیلئے قوانین بنائے جارہے ہیں انہوں نے کہاکہ بل کے مطابق جو بندہ 50کروڑ تک چوری کرے گا اس کو نیب ہاتھ نہیں لگائے گا انہوں نے کہاکہ چھوٹا چور جیل میں جبکہ بڑا چور ان ایوانوں میں بیٹھے گا یہ غلط ہے جو بجلی کا بل نہیں دیتا ہے وہ جیل جاتا ہے اور جو 49کروڑ تک چوری کرے وہ جیل میں نہیں جائے گا اس موقع پر وزیر مملکت برائے قانون نے کہاکہ یہ ترامیم عوامی مفاد میں کی گئی ہیں اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے ایوان میں بل پیش کرنے پرچیرمین ڈائس کے سامنے شدید احتجاج کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دی اور احتجاجاً ایوان سے واک آوٹ کیا اس موقع پر سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ سیاسی جماعتوں نے یہ رویہ اختیار کیا ہے کہ میرا چور زندہ باد تیرا چور مردہ باد اس وقت ملک میں کرپشن ہے،دبئی لیکس،پینڈورا لیکس اور پانامہ لیکس پاکستان کی کرپشن کی کہانیاں ہیں انہوں نے کہاکہ قوانین عوام کیلئے بنائے جاتے ہیں اپنی لیڈر شپ اور چوروں کو تحفظ دینے کیلئے قانون سازی نہ کریں اس موقع پر سینیٹر مشتاق احمد خان نے بل میں ترامیم پیش کرتے ہوئے کہاکہ ان ترامیم کو 1999سے نافذ العمل کرنا زیادتی ہے اسی طرح ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھانے والوں سے بھی تفتیش ہونی چاہیے اسی طرح 50کروڑ کی استشنیٰ کی بجائے 5کروڑ کا اسشنیٰ دیا جائے اس موقع پر وزیر مملکت برائے قانون نے ترامیم کو مسترد کردیا جس کے بعد چیرمین سینیٹ نے ایوان سے بل کی شق وار منظوری لینے کے بعد بل کو منظور کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں